Breaking

Thursday, August 1, 2019

August 01, 2019

allama iqbal poetry

Allama Iqbal poetry 

علامہ اقبال

ڈاکٹرسرعلامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء تا 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ علامہ اقبال کو دورجدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاستدان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے جو انہوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو 

اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا 


علامہ اقبال کی کتابيں

  • پیام مشرق  موضوع  شاعری
  • پس چہ باید کرد ای اقوام شرق موضوع شاعری
  • ارمغان حجاز موضوع شاعری
  • ارمغان حجاز موضوع متفرقات
  • اسرار خودی موضوع شاعری
  • بال جبریل موضوع شاعری
  • بانگ درا موضوع شاعری
  • تجدید فکریات اسلام موضوع فقہ، اجتہاد و قانون
  • جاوید نامہ موضوع شاعری
  • زبور عجم موضوع شاعری
  • ضرب کلیم موضوع شاعری

Poetry of Allama Iqbal

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدار یار ہوگا 
سکوت تھا پردہ دار جس کا وہ راز اب آشکار ہوگا 

گزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والے 
بنے گا سارا جہان مے خانہ ہر کوئی بادہ خوار ہوگا 

کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں آ بسیں گے 
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا 

سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر 
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پر استوار ہوگا 

نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا 
سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا 
کیا مرا تذکرہ جو ساقی نے بادہ خواروں کی انجمن میں 
تو پیر مے خانہ سن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے خار ہوگا 

دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے 
کھرا ہے جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا 

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی 
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا 

سفینۂ برگ گل بنا لے گا قافلہ مور ناتواں کا 
ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہوگا 

چمن میں لالہ دکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کو 
یہ جانتا ہے کہ اس دکھاوے سے دل جلوں میں شمار ہوگا 

جو ایک تھا اے نگاہ تو نے ہزار کر کے ہمیں دکھایا 
یہی اگر کیفیت ہے تیری تو پھر کسے اعتبار ہوگا 

کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پاگل ہیں 
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا 

خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے 
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا 

یہ رسم برہم فنا ہے اے دل گناہ ہے جنبش نظر بھی 
رہے گی کیا آبرو ہماری جو تو یہاں بے قرار ہوگا 

میں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو 
شہہ نشاں ہوگی آہ میری نفس مرا شعلہ بار ہوگا 

نہیں ہے غیر از نمود کچھ بھی جو مدعا تیری زندگی کا 
تو اک نفس میں جہاں سے مٹنا تجھے مثال شرار ہوگا 

نہ پوچھ اقبال کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی 
کہیں سر راہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا


اصل مرد مجاحد


Poet: علامہ محمد اقبال
صوفی کی طریقت میں فقط مستی احوال
ملا کی شریعت میں فقط مستی گفتار

شاعر کی نوا مردہ و افسردہ و بے ذوق
افکار میں سرمست، نہ خوابیدہ نہ بیدار

وہ مرد مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو
ہو جس کے رگ و پے میں فقط مستی کردار


یہ کون غزل خواں ہے پرسوز و نشاط انگیز

Poet: Allama Iqbal
یہ کون غزل خواں ہے پرسوز و نشاط انگیز 
اندیشۂ دانا کو کرتا ہے جنوں آمیز 

گو فقر بھی رکھتا ہے انداز ملوکانہ 
ناپختہ ہے پرویزی بے سلطنت پرویز 

اب حجرۂ صوفی میں وہ فقر نہیں باقی 
خون دل شیراں ہو، جس فقر کی دستاویز 

اے حلقۂ درویشاں وہ مرد خدا کیسا 
ہو جس کے گریباں میں ہنگامۂ رستاخیز 

جو ذکر کی گرمی سے شعلے کی طرح روشن 
جو فکر کی سرعت میں بجلی سے زیادہ تیز 
کرتی ہے ملوکیت آثار جنوں پیدا 
اللہ کے نشتر ہیں تیمور ہو یا چنگیز 

یوں داد سخن مجھ کو دیتے ہیں عراق و پارس 
یہ کافر ہندی ہے بے تیغ و سناں خوں ریز 

کھو نہ جا اس سحر و شام میں اے صاحب ہوش

Poet: Allama Iqbal

کھو نہ جا اس سحر و شام میں اے صاحب ہوش 
اک جہاں اور بھی ہے جس میں نہ فردا ہے نہ دوش 

کس کو معلوم ہے ہنگامۂ فردا کا مقام 
مسجد و مکتب و مے خانہ ہیں مدت سے خموش 

میں نے پایا ہے اسے اشک سحرگاہی میں 
جس در ناب سے خالی ہے صدف کی آغوش 

نئی تہذیب تکلف کے سوا کچھ بھی نہیں 
چہرہ روشن ہو تو کیا حاجت گلگونہ فروش 

صاحب ساز کو لازم ہے کہ غافل نہ رہے 
گاہے گاہے غلط آہنگ بھی ہوتا ہے سروش 


کمال جوش جنوں میں رہا میں گرم طواف

Poet: Allama Iqbal
کمال جوش جنوں میں رہا میں گرم طواف 
خدا کا شکر سلامت رہا حرم کا غلاف

یہ اتفاق مبارک ہو مومنوں کے لیے 
کہ یک زباں ہیں فقیہان شہر میرے خلاف

تڑپ رہا ہے فلاطوں میان غیب و حضور 
ازل سے اہل خرد کا مقام ہے اعراف

ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب 
گرہ کشا ہے نہ رازیؔ نہ صاحب کشافؔ

سرور و سوز میں ناپائیدار ہے ورنہ 
مے فرنگ کا تہ جرعہ بھی نہیں ناصاف 

ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق

Poet: Allama Iqbal
ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق 
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میں 
فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مرد خلیق

علاج ضعف یقیں ان سے ہو نہیں سکتا 
غریب اگرچہ ہیں رازیؔ کے نکتہ ہاے دقیق

مرید سادہ تو رو رو کے ہو گیا تائب 
خدا کرے کہ ملے شیخ کو بھی یہ توفیق

اسی طلسم کہن میں اسیر ہے آدم 
بغل میں اس کی ہیں اب تک بتان عہد عتیق
مرے لیے تو ہے اقرار بااللساں بھی بہت 
ہزار شکر کہ ملا ہیں صاحب تصدیق

اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی 
نہ ہو تو مرد مسلماں بھی کافر و زندیق 



فطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ چالاک

Poet: Allama Iqbal




فطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ چالاک 
رکھتی ہے مگر طاقت پرواز مری خاک

وہ خاک کہ ہے جس کا جنوں صیقل ادراک 
وہ خاک کہ جبریل کی ہے جس سے قبا چاک

وہ خاک کہ پروائے نشیمن نہیں رکھتی 
چنتی نہیں پہنائے چمن سے خس و خاشاک

اس خاک کو اللہ نے بخشے ہیں وہ آنسو 
کرتی ہے چمک جن کی ستاروں کو عرق ناک 

شاہيں

Poet: Allama Iqbal


الفاظ و معاني ميں تفاوت نہيں ليکن
ملا کي اذاں اور مجاہد کي اذاں اور

پرواز ہے دونوں کي اسي ايک فضا ميں
کرگس کا جہاں اور ہے ، شاہيں کا جہاں اور



Click on this in order to read. These are the most famous books of Allama Iqbal.




Payam e Mashriq: 001: Tamheed




Payam e Mashriq: 002 Debacha



Payam e Mashriq: 006 Afkar


Payam e Mashriq: 007 Mai Baqi


Payam e Mashriq: 008 Naqsh e Farang

Payam e Mashriq: 003 Muqadma


Payam e Mashriq: 004 Paishkash

Payam e Mashriq: 005 Lala e Toor

August 01, 2019

sad poetry in urdu

Sad Poetry In Urdu

Poet : Ahmad Faraz

منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا

Poet: Ahmed Faraz



منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا 
بات کر تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا 

رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئی 
خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا 

کیسے پایا تھا تجھے پھر کس طرح کھویا تجھے 
مجھ سا منکر بھی تو قائل ہو گیا تقدیر کا 

جس طرح بادل کا سایہ پیاس بھڑکاتا رہے 
میں نے یہ عالم بھی دیکھا ہے تری تصویر کا 

جانے کس عالم میں تو بچھڑا کہ ہے تیرے بغیر 
آج تک ہر نقش فریادی مری تحریر کا 

عشق میں سر پھوڑنا بھی کیا کہ یہ بے مہر لوگ 
جوئے خوں کو نام دے دیتے ہیں جوئے شیر کا 

جس کو بھی چاہا اسے شدت سے چاہا ہے فرازؔ 
سلسلہ ٹوٹا نہیں ہے درد کی زنجیر کا
...........

اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا

Poet: Ahmed Faraz


اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا 
لیکن شہر کی خاموشی بھی دھیان میں رکھنا 

میرے جھوٹ کو کھولو بھی اور تولو بھی تم 
لیکن اپنے سچ کو بھی میزان میں رکھنا 

کل تاریخ یقیناً خود کو دہرائے گی 
آج کے اک اک منظر کو پہچان میں رکھنا 

بزم میں یاروں کی شمشیر لہو میں تر ہے 
رزم میں لیکن تلوار کو میان میں رکھنا 

آج تو اے دل ترک تعلق پر تم خوش ہو 
کل کے پچھتاوے کو بھی امکان میں رکھنا 
اس دریا سے آگے ایک سمندر بھی ہے 
اور وہ بے ساحل ہے یہ بھی دھیان میں رکھنا 

اس موسم میں گل دانوں کی رسم کہاں ہے 
لوگو اب پھولوں کو آتش دان میں رکھنا


مزاج ہم سے زیادہ جدا نہ تھا اس کا

Poet: Ahmed Faraz

مزاج ہم سے زیادہ جدا نہ تھا اس کا 
جب اپنے طور یہی تھے تو کیا گلہ اس کا 

وہ اپنے زعم میں تھا بے خبر رہا مجھ سے 
اسے گماں بھی نہیں میں نہیں رہا اس کا 

وہ برق رو تھا مگر وہ گیا کہاں جانے 
اب انتظار کریں گے شکستہ پا اس کا 
چلو یہ سیل بلا خیز ہی بنے اپنا 
سفینہ اس کا خدا اس کا ناخدا اس کا 

یہ اہل درد بھی کس کی دہائی دیتے ہیں 
وہ چپ بھی ہو تو زمانہ ہے ہم نوا اس کا 

ہمیں نے ترک تعلق میں پہل کی کہ فرازؔ 
وہ چاہتا تھا مگر حوصلہ نہ تھا اس کا


گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا

Poet: Ahmed Faraz


گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا 
مدتوں کے بعد کوئی ہم سفر اچھا لگا 

دل کا دکھ جانا تو دل کا مسئلہ ہے پر ہمیں 
اس کا ہنس دینا ہمارے حال پر اچھا لگا 

ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود 
آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا 
باغباں گلچیں کو چاہے جو کہے ہم کو تو پھول 
شاخ سے بڑھ کر کف دل دار پر اچھا لگا 

کوئی مقتل میں نہ پہنچا کون ظالم تھا جسے 
تیغ قاتل سے زیادہ اپنا سر اچھا لگا 

ہم بھی قائل ہیں وفا میں استواری کے مگر 
کوئی پوچھے کون کس کو عمر بھر اچھا لگا 

اپنی اپنی چاہتیں ہیں لوگ اب جو بھی کہیں 
اک پری پیکر کو اک آشفتہ سر اچھا لگا 

میرؔ کے مانند اکثر زیست کرتا تھا فرازؔ 
تھا تو وہ دیوانہ سا شاعر مگر اچھا لگا 

..........
Two Line Poetry
Us Ki Aankhon Ko Kabi Ghor Se Dekha Hai Faraz
Rone Walon Ki Tarah Jagne Walon Jesi

...........
Aesi Tareekyan Aankhon Mein Basi Hai Ke Faraz
Raat Tu Raat Hai Ham Din Ko Jalate Hain Chiragh

poetry

.........
Dil Ko Teri Chahat Pe Bhrosa Bhi Bohat Hai
Aur Tuj Se Bichar Jane Ka Dar Bhi Nahi Jata

...........
Tere Hote Hoye Aa Jati Thi Sari Dunya
Aaj Tanha Hun Tu Koi Nahi Aane Wala


..................
Koi Batlao Ke Ik Umer Ka Bichra Mehboob
Itfaqan Kahin Mil Jaye Tu Kya Kehte Hain
..........

Aur Faraz Chahyen Kitni Mohabaten Tujhe
Maon Ne Tere Naam Par Bachon Ka Naam Rakh Dia
sad poetry in urdu

...............
Main Aane Wale Zamano Se Dar Raha Hun Faraz
Ke Main Ne Dekhi Hain Aankhen Udas Logo Ki


.................
Aankh Se Door Na Ho Dil Se Utar Jaye Ga
Waqt Ka Kya Hai Guzarta Hai Guzar Jaye Ga


..............
Mere Sabr Ki Intiha Kia Pochte Ho Faraz
Wo Muj Se Lipat Ke Roya Kisi Aur Ke Liye


...........


...........

Log Pathar Ke Buton Ko Poj Kar Bi Masoom Rahe Faraz
Ham Ne Ik Insan Ko Chaha Aur Gunehgar Ho Gaye


............
Ab Tere Zikar Pe Ham Baat Badal Dete Hain
Kitni Raghbat Thi Tere Naam Se Pehle Pehle

.............
Ab To Hamain Bi Tark-e Mrasam Ka Dukh Nahi
Par Dil Ye Chahta Hai Ke Aaghaz Tu Kare


...............
Jo Zehar Pee Chuka Hun Tumhein Ne Muje Dia
Ab Tum Zindagi Ki Duaen Muje Na Do


.............
Is Dunya Mai Kon Kre Wafa Kisi Se Faraz
Dil K Do Hroof Wo Bi Juda Juda


..............
Zindagi Se Yehi Gila Hai Muje
Tu Bohat Dair Se Mila Hai Muje


.........
Rooth Janay Ki Ada Ham Ko Bi Ati Hay
Kash Hota Koi Ham Ko Bi Mnane Wala


............
Kon Preshan Hota Hai Tere Gham Se Faraz
Wo Apni Hi Kisi Baat Pe Roya Ho Ga


........
Koi Khamosh Ho Jaye Tu Ham Tarap Jate Hain Faraz
Ham Khamosh Hoye Tu Kisi Ne Haal Tak Na Pocha


...........
Jis Simat Bhi Dekhon Nazar Aata Hai Ke Tum Ho
Ae Jan-e Jahan Ye Koi Tum Sa Hai Ke Tum Ho


...............
Kisi Se Juda Hona Agar Itna Asan Hota Faraz
Tu Jism Se Roh Ko Lene Kabi Farishte Nahi Aate

.........
Shayad Tu Kabi Pyasa Meri Tarf Lot Aye Faraz
Aankhon Mein Liye Phirta Hon Darya Teri Khatir

...............
Dost Ban Kar Bhi Nahi Sath Nibahne Wala
Wohi Andaaz Hai Zalam Ka Zamane Wala

.............
Tu Saamne Hai Tu Phir Kyn Yaqeen Nahi Aata
Ye Bar Bar Jo Aankhon Ko Mal Ke Dekhte Hain

...............
Is Se Pehle Keh BeWafa Ho Jayen
Kyun Na Ae Dost Ham Juda Ho Jayen

...............
Muje Se Kehti Hai Tere Sath Rahon Gi Faraz
Bohat Pyar Karti Hai Muj Se Udasi Meri

.............
Ab Aur Kya Kisi Se Marasam Barhyen Ham
Ye Bhi Bohat Hai Tuj Ko Agar Bhol Jayen Ham

............
Muntazir Kis Ka Hun Toti Hoyi Dehleez Pey Mein
Kon Aye Ga Yahan Ko Hai Aane Wala

................
Kisi Bewafa Ki Khatar Ye Junon Faraz Kab Tak
Ju Tumhain Bhol Chuka Hai Usay Tum Bi Bhol Jao

...............
Usay Trahsa K Hera Bna Dia Ham Ne Faraz
Magar Ab Ye Sochte Hain Usay Khredain Kesay

..............
Guftagu Achi Lagi Zoq-e Nazar Acha Laga
Mudaton Ke Ba’ad Koi Hamsafar Acha Laga

.............
Ik Pal Mai Jo Barbad Kar Dete Hain Dil Ki Basti Ko Faraz
Wo Log Dekhne Mai Aksar Masom Hote Hain

...........
Dil Ka Dukh Jana Tu Dil Ka Masla Hai
Us Ka Hans Dena Hamare Hal Par Acha Laga

.................
Ab Tak Dil-e Khush Fahm Ko Tuj Se Hain Umeedain
Ye Aakhri Shama Bhi Bhujane Ke Liye Aa

...............
Awaz De Ke Chup Gayi Har Bar Zindagi
Ham Aese Sada Dil They Ke Har Baar Aa Gaye

...............
Dolat-e Dard Do Dunya Se Chupa Kar Rakhna
Aankh Mein Boond Na Ho Dil Mein Samandar Rakhna

...............
Us Ko Juda Hoye Bhi Zamana Bohat Hua
Ab Kyaa Kahen Ye Qissa Purana Bohat Hua
Dhalti Na Thi Kisi Bhi Jatan Se Shab-e-firaq
Ai Marg-e-na-gahan Tera Aana Bohat Hua
Ham Khuld Se Nikal To Gaye Hain Par Ai Khuda
Itne Se Vaqiye Ka Fasana Bohat Hua
Ab Ham Hain Aur Sare Zamane Ki Dushmani
Us Se Zara Sa Rabt Barhana Bohat Hua
Ab Kyun Na Zindagi Pe Mohabat Ko Vaar Dain
Is Ashiqi Mein Jaan Se Jana Bohat Hua
Ab Tak To Dil Ka Dil Se Ta’aaruf Na Ho Saka
Mana Ki Us Se Milna Milana Bohat Hua
Kya Kya Na Ham Kharaab Hoye Hain Magar Ye Dil
Ai Yaad-e-yaar Teraa Thikaana Bohat Hua
Kahta Tha Naasehon Se Mere Munh Na Aaiyo
Phir Kyaa Thaa Ek Huu Kaa Bahaana Bahut Hua
Lo Phir Tire Labon Pe Usii Bewafa Ka Zikr
Ahmad ‘faraz’ Tujh Se Kahaa Na Bohat Hua

...............
Meri palkon ka ab neend sy koi wasta nai faraz
Mera kon hai is duniya main, isi soch main raat guzr jati hai

...........
Pyar or Mohabat Us Door Ki Baat Hai Faraz
Jab Makan Kachay Or Log Sachy Hoa Karte Thay

...........
Wo Zindagi Ho Ke Dunya Faraz Kia Ki jiye
Keh Jis Se Ishq Kro Bewafa Nikalti Hai

.............
Mujhse Har Bar Wo Nazren Chura Leta Hai Faraz
Mane Kagaz Pe Bhi Bana Ke Dekhi Hain Ankhen Usk

.............
Main Shab Ka Bi Mujrim Hoon Sehr Ka Bi Hoon Mujrim
Yaroo Muje Is Shehr Ke Aadab Sikha Do

.............
Ham Chiraghon Ko Tu Tareeki Se Larna Hai Faraz
Gul hoye Par Subah Ke Aasar Ban Jayen Gay Ham

.............
Kab Kon Kisi Ka Hota Hai
Sab Jhote Rishte Naate Hain
Sab Dil Rakhne Ki Batain Hain
Sab Asli Roop Chupate Hain
Ikhlas Se Khali Log Yahan
Lafzon Ke Teer Chalate Hain
Ik Bar Nigahon Main Aa Kar
Phir Sari Umar Rulate Hain

...........
Doobtay Doobtay Kashti Ko Uchala De Doon
Main Nahi Koi Tu Sahal Par Utar Jaye Ga
Zabt Lazim Hai Magr Dukh Hai Qayamat Ka Faraz
Zalim Ab Ke Bi Na Roye Ga Tu Mar Jaye Ga

.............
Muhabat Ke Bad Muhabat Mumkin Hai Faraz
Par Toot Ke Chahna Sirf Aik Bar Hota Hai

...........
Ye Kanayat Hai Itayat Hai Keh Chahat Hai Faraz
Ham Tu Razi Hain Wo Jis Hal Main Jesa Rakhe

............
Suna Hai Zindagi Imtihan Leti Hai Faraz
Par Yahan Tu Imtihanon Ne Zindagi Le Li

............
Jee Tu Karta Hai Usay Muft Main Jaan Day Doon
Faraz Itnay Masoom Khridar Se Kiya Lena Dena

...........
Mohabbat Kar Sakte Ho To Khuda Se Karo Faraz
Mitti Ke Khilonon Se Kabhi Wafa Nahi Milti

.........
Yoon hi mosam ki ada dekh ke yaad aya hai
Kis kadar jald badal jate hain insaan janaan

...........
تیرے چرچے ہیں جفا سے تیری
لوگ مر جائیں بلا سے تیری
کوئی نسبت کبھی اے جانِ سخن
کسی محرومِ نوا سے تیری
اے میرے ابرِ گریزان کب تک
راہ تکتے رہیں پیاسے تیری
تیرے مقتل بھی ہمیں سے آباد
ہم بھی زندہ ہیں دعا سے تیری
تو بھی نادم ہے زمانے سے ‘فراز‘
وہ بھی ناخوش ہیں وفا سے تیری

..............
Ab kun roshni se darte ho faraz
Tum to kehte thay muje chand chahiye

...........

Bikhar rahe hain meri zindagi key tmam wark
Na jane kab koi aandhi ura ke le jaye
Main  kab tak dosron ke dukh sambhan ka rakhon faraz
Jis jis ke hain nishani bta ke le jaye

...........
Zindagi se ham kuch udhar nahi lete faraz
Kafan bi latey hain to zindagi day kar